27 رَبيع الثاني / October 08

امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ حملہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے بھی کیا جا سکتا ہے۔

تاہم رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں میں بھی بے یقینی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ایشیائی اسٹاک مارکیٹس پر دباؤ دیکھا گیا جبکہ خام تیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔

واضح رہے کہ امریکا میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو شیڈول ہیں۔ ایران کے خلاف کسی ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں حتمی فیصلہ سامنے آنے تک حملے سے متعلق رپورٹس کو دعووں اور ذرائع کی اطلاعات کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔

ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشات کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے خلاف بڑے فوجی حملوں کا امکان زیرِ غور ہے۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے امریکی سینٹرل کمانڈ کو ممکنہ کارروائی کے حوالے سے اپنی تیاریاں مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ حملہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے بھی کیا جا سکتا ہے۔

تاہم رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں میں بھی بے یقینی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ایشیائی اسٹاک مارکیٹس پر دباؤ دیکھا گیا جبکہ خام تیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔

واضح رہے کہ امریکا میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو شیڈول ہیں۔ ایران کے خلاف کسی ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں حتمی فیصلہ سامنے آنے تک حملے سے متعلق رپورٹس کو دعووں اور ذرائع کی اطلاعات کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔