119
منوج باجپائی کا AI سے آواز اور تصویر کے استعمال کے خلاف عدالت سے رجوع
نئی دہلی: بالی ووڈ اداکار منوج باجپائی نے اپنی تصویر، آواز اور شناخت کے مبینہ غیر مجاز استعمال کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔ اداکار نے اپنی درخواست میں شخصی حقوق کے تحفظ کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی تصاویر کے مبینہ تجارتی استعمال کے ساتھ ساتھ…
نئی دہلی: بالی ووڈ اداکار منوج باجپائی نے اپنی تصویر، آواز اور شناخت کے مبینہ غیر مجاز استعمال کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔
اداکار نے اپنی درخواست میں شخصی حقوق کے تحفظ کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی تصاویر کے مبینہ تجارتی استعمال کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ان کی آواز کی نقل تیار کی گئی۔
درخواست میں ایک فریق ایچ ٹو پی جی ڈیزائنز پرائیویٹ لمیٹڈ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے منوج باجپائی کی تصاویر اس انداز میں استعمال کیں جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا تھا کہ اداکار مذکورہ کمپنی کے تیار کردہ ملبوسات زیب تن کیے ہوئے ہیں۔
درخواست میں ایک دوسرے فریق پر بھی مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اداکار کی آواز کی نقل تیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
منوج باجپائی نے ایسے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس کے استعمال سے بھی تحفظ کی درخواست کی ہے جو ان کی شناخت سے منسلک خصوصیات کو استعمال کر سکتے ہیں۔
سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مقدمہ دہلی میں کیوں دائر کیا گیا، جبکہ اداکار بنیادی طور پر ممبئی میں مقیم ہیں۔
اداکار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بعض فریق دہلی میں مقیم ہیں، جس کی بنیاد پر عدالت کو مقدمے کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔
عدالت نے منوج باجپائی کے وکیل کو شخصی حقوق سے متعلق سابقہ عبوری اور حتمی عدالتی فیصلے، جن میں دیگر ہائی کورٹس کے فیصلے بھی شامل ہیں، ریکارڈ پر پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
منوج باجپائی کی جانب سے دائر درخواست ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت کے ذریعے معروف شخصیات کی آواز، تصاویر اور شناخت کی نقل تیار کیے جانے کے حوالے سے قانونی اور شخصی حقوق سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔








