119
صوبوں کے معاملے پر بات قبل ازوقت ہے، رانا ثناء اللہ
وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے نزدیک نئے صوبوں کے معاملے پر بات کرنا فی الحال قبل ازوقت ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ صوبوں کے قیام سے…
وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے نزدیک نئے صوبوں کے معاملے پر بات کرنا فی الحال قبل ازوقت ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ صوبوں کے قیام سے متعلق ریفرنڈم کے لیے بھی پہلے پارلیمنٹ سے رجوع کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق جب اس معاملے پر فیصلہ کرنے کا وقت آئے گا تو مسلم لیگ (ن) اپنی واضح پوزیشن لے گی۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد جیسی قراردادیں ماضی میں بھی منظور ہوچکی ہیں، جبکہ صوبوں کے معاملے پر گزشتہ روز پیدا ہونے والی شدت اور تلخی غیرضروری تھی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں تقریر کے دوران قومی اسمبلی کو بھی غیرضروری طور پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے مصطفیٰ کمال کے 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق بیان پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ترمیم کے معاملے پر باقاعدہ مشاورت ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان کی رہائش گاہ کے باہر تقریباً ڈیڑھ ماہ تک مشاورت کا سلسلہ جاری رہا۔
کینال کے معاملے پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سندھ میں احتجاج کے دوران مراد علی شاہ اور وفاق کے درمیان معاملات طے کرنے میں مسلم لیگ (ن) نے بھی کردار ادا کیا تھا۔ ان کے مطابق کینال کا معاملہ صرف پیپلز پارٹی کا نہیں بلکہ سندھ کے عوام کی آواز ہے۔
انہوں نے کہا کہ کینال کے معاملے پر پیپلز پارٹی نے بھی کچھ تاخیر کی، جس کے بعد اسے احتجاج میں شامل ہونا پڑا۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے اور عوام سے جڑنے کے لیے قرارداد پیش کی اور تقاریر کیں۔ ان کے بقول صوبوں کے معاملے پر فی الحال ایسی صورتحال نہیں کہ کسی فریق کو انتہائی سخت مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت ہو۔








