119
ایران جنگ: ہتھیاروں کے ذخائر سے متعلق رپورٹس پر ٹرمپ کا میڈیا پر سخت ردِعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی سے متعلق میڈیا رپورٹس پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ صحافتی اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی صدر نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں دعویٰ کیا…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی سے متعلق میڈیا رپورٹس پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ صحافتی اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
امریکی صدر نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکی فوج پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہتھیار تیار کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس بڑی مقدار میں ہتھیار موجود ہیں اور ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط ہے۔
ٹرمپ نے ان میڈیا اداروں پر بھی تنقید کی جو ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکی دفاعی اور حملہ آور ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی سے متعلق رپورٹس شائع کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض میڈیا ادارے جنگ کی صورتحال کو درست انداز میں پیش نہیں کر رہے۔
متعدد امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی فوج کے میزائلوں اور دیگر فوجی سازوسامان کے ذخائر پر دباؤ بڑھا ہے۔ خاص طور پر خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اتحادیوں کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے تحفظ فراہم کرنے والے دفاعی نظام کے میزائل بڑی تعداد میں استعمال کیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جولائی تک امریکا کے پاس پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کے ایک تہائی سے کچھ زیادہ میزائل جبکہ تھاڈ دفاعی نظام کے تقریباً نصف میزائل باقی رہ گئے تھے۔
جنگ کے دوران ٹوماہاک، جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائل اور پریسیژن اسٹرائیک میزائل سمیت مختلف نوعیت کے اہم حملہ آور ہتھیار بھی استعمال کیے گئے۔
عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے دفاعی کمپنیوں کے ساتھ پیداوار بڑھانے کے لیے نئے معاہدوں کے باوجود بعض اہم ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ مطلوبہ سطح پر لانے میں کم از کم دو سال لگ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں سابق امریکی فوجی حکام کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہتھیاروں کی ممکنہ قلت قلیل مدت میں امریکا کی دفاعی صلاحیت اور مخالف ممالک کے خلاف اس کی باز رکھنے کی پالیسی کو متاثر کر سکتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی امریکی ہتھیاروں کے ذخائر سے متعلق رپورٹس پر ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں۔ اگست میں ایک امریکی اخبار نے رپورٹ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ ہتھیاروں کی کمی سے متعلق اطلاعات پر وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے بھی ناراض تھے۔
ٹرمپ نے ایسی معلومات کے افشا کو قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے ان ذرائع کے خلاف کارروائی کی بات کی تھی جو یہ معلومات میڈیا تک پہنچاتے ہیں۔
دوسری جانب آزادیٔ صحافت کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے امریکی انتظامیہ کے میڈیا سے متعلق اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صحافتی تنظیموں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں تنقیدی کوریج کرنے والے میڈیا اداروں اور حساس معلومات کے ذرائع کے حوالے سے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی ہتھیاروں کے ذخائر سے متعلق اعداد و شمار اور ممکنہ کمی کے حوالے سے مختلف میڈیا رپورٹس سامنے آئی ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ ان رپورٹس کے بعض دعوؤں کی تردید کر چکے ہیں۔








