119
برطانوی شاہی محل میں میکرون جوڑے کی میزبانی، ملکہ کمیلا کا انداز بھی توجہ کا مرکز
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور ان کی اہلیہ بریجٹ میکرون کے برطانیہ کے دورے کے دوران برطانوی بادشاہ چارلس سوم اور ملکہ کمیلا سے ملاقات ہوئی، جس کے دوران دونوں جوڑوں کے درمیان خوشگوار اور شائستہ ماحول دیکھنے میں آیا۔ فرانسیسی صدر اور ان کی اہلیہ نے بادشاہ چارلس سوم اور ملکہ کمیلا کے ہمراہ…
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور ان کی اہلیہ بریجٹ میکرون کے برطانیہ کے دورے کے دوران برطانوی بادشاہ چارلس سوم اور ملکہ کمیلا سے ملاقات ہوئی، جس کے دوران دونوں جوڑوں کے درمیان خوشگوار اور شائستہ ماحول دیکھنے میں آیا۔
فرانسیسی صدر اور ان کی اہلیہ نے بادشاہ چارلس سوم اور ملکہ کمیلا کے ہمراہ برٹش میوزیم کا دورہ کیا، جہاں تقریباً ایک ہزار سال پرانے تاریخی ورثے بایو ٹیپسٹری کی رونمائی کی گئی۔
میوزیم پہنچنے کے موقع پر صدر ایمانوئل میکرون اور ملکہ کمیلا کی مختصر ملاقات بھی توجہ کا مرکز بنی۔ اس موقع پر میکرون نے ملکہ کمیلا کی کمر پر شائستگی سے ہاتھ رکھا، جس کی تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث آئیں۔
تقریب کا مقصد برطانیہ اور فرانس کے درمیان مشترکہ تاریخ کے ایک اہم اور غیر معمولی ورثے کو اجاگر کرنا تھا۔ تقریباً 70 میٹر طویل قرونِ وسطیٰ کی بایو ٹیپسٹری تقریباً ایک ہزار سال بعد پہلی مرتبہ برطانیہ لائی گئی ہے۔
تقریب کے دوران ملکہ کمیلا اپنے لباس اور انداز کے باعث بھی مہمانوں اور میڈیا کی توجہ کا مرکز رہیں، جبکہ برطانیہ پہنچنے پر فرانسیسی صدر اور ان کی اہلیہ کے استقبال کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں۔
بادشاہ چارلس سوم اور صدر ایمانوئل میکرون سرکاری بینٹلی میں ایک ساتھ برٹش میوزیم پہنچے، جبکہ ملکہ کمیلا اور بریجٹ میکرون الگ گاڑی میں وہاں پہنچیں۔
بعد ازاں دونوں جوڑے میوزیم میں داخل ہوئے، جہاں صدر ایمانوئل میکرون اور ان کی اہلیہ بریجٹ میکرون، بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا کے ہمراہ چلتے دکھائی دیے۔
میوزیم کے اندر بادشاہ چارلس سوم نے بایو ٹیپسٹری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے برطانیہ اور فرانس کے درمیان صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ پر روشنی ڈالی۔
بادشاہ چارلس نے انگریزی اور فرانسیسی دونوں زبانوں میں خطاب کیا اور اس تاریخی داستان کو بلند عزائم اور غیر یقینی صورتحال سے بھرپور قرار دیا۔ انہوں نے ٹیپسٹری میں دکھائے گئے سفر، بادشاہوں، مشاورت اور ان کے نتیجے میں رونما ہونے والے واقعات کا بھی ذکر کیا۔








