19 رَبيع الأوّل / September 01

انگلینڈ میں پاکستان کے بیٹر امام الحق کی حالیہ انجری کے بعد 2025 میں سامنے آنے والی ایک انکوائری رپورٹ بھی دوبارہ توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جس میں انہیں مبینہ طور پر انجری کی علامات بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا ذمے دار قرار دیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق ماضی کے واقعے کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) امام الحق کی حالیہ انجری کے معاملے کی بھی تحقیقات کر سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مارچ 2025 میں نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران امام الحق کے دائیں پاؤں کے انگوٹھے پر انڈور نیٹ سیشن کے دوران گیند لگی تھی۔

28 مارچ کو ہونے والے واقعے کے بعد ایکسرے میں ان کے انگوٹھے میں فریکچر یا ہڈی کے اپنی جگہ سے ہٹنے کے شواہد نہیں ملے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیکل ٹیم کی ہدایت کے باوجود امام الحق مبینہ طور پر افطار کے لیے تقریباً 500 میٹر پیدل گئے، جس کے بعد انہوں نے انگوٹھے میں شدید درد اور اس کے سیاہ پڑنے کی شکایت کی۔

ذرائع کے مطابق ٹیم ڈاکٹر نے مخصوص کیمیکل والے پیپر سے امام الحق کا انگوٹھا صاف کیا تو مبینہ سیاہ نشان صاف ہوگیا۔

پی سی بی کی انکوائری کمیٹی کے مطابق انگوٹھے سے صاف ہونے والا سیاہ مادہ قدرتی خون کا نشان نہیں تھا بلکہ سیاہی یا مارکر سے مشابہ تھا۔

ذرائع کے مطابق امام الحق نے کمیٹی کے سامنے انگوٹھے پر سیاہی یا کسی مصنوعی مادے کے استعمال سے انکار کیا، تاہم کمیٹی نے ان کی وضاحت کو طبی شواہد، ایکسرے اور انگوٹھے کی ظاہری حالت سے متصادم قرار دیا تھا۔

ٹیم حکام کے مطابق امام الحق نگرانی میں لنگڑاتے ہوئے دکھائی دیے، تاہم نظروں سے اوجھل ہونے پر انہیں معمول کے مطابق چلتے ہوئے دیکھا گیا۔

انکوائری کمیٹی نے متفقہ طور پر قرار دیا تھا کہ امام الحق کو نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ون ڈے کے لیے اَن فٹ قرار دینے کی کوئی طبی بنیاد موجود نہیں تھی۔

کمیٹی نے انہیں انجری کی علامات مبینہ طور پر جعلی بنانے، بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور طبی عملے کو گمراہ کرنے کا ذمے دار قرار دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق پی سی بی کی انکوائری کمیٹی نے تمام فارمیٹس اور تمام سطحوں پر پاکستان کی نمائندگی سے پابندی کی سفارش بھی کی تھی۔

کمیٹی نے مبینہ اقدام کو دانستہ، پہلے سے طے شدہ اور دھوکا دہی پر مبنی قرار دیا تھا۔

امام الحق کی تازہ انجری کے دعوے کے بعد 2025 کی انکوائری رپورٹ ایک بار پھر زیرِ بحث آگئی ہے۔

سابقہ تنازع کے دوران یہ الزام بھی سامنے آیا تھا کہ امام الحق نیوزی لینڈ کی تیز اور مشکل پچز پر اوپننگ سے گریز کرنا چاہتے تھے، تاہم موجودہ معاملے اور سابقہ الزامات سے متعلق حتمی مؤقف پی سی بی کی ممکنہ تحقیقات کے بعد ہی واضح ہو سکے گا۔