118
سابق امریکی سفیر کا دعویٰ، نیتن یاہو ترکیہ کو نیا حریف بنا کر سیاسی فائدہ چاہتے ہیں
سابق امریکی سفیر برائے ترکیہ فرانسس جے ریکارڈون نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو ترکیہ کو اسرائیل کے نئے دشمن کے طور پر پیش کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عرب میڈیا کے ایک نیوز پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فرانسس ریکارڈون نے کہا کہ نیتن یاہو…
سابق امریکی سفیر برائے ترکیہ فرانسس جے ریکارڈون نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو ترکیہ کو اسرائیل کے نئے دشمن کے طور پر پیش کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عرب میڈیا کے ایک نیوز پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فرانسس ریکارڈون نے کہا کہ نیتن یاہو کی جانب سے ترکیہ اور ترک صدر رجب طیب اردوان کو اسرائیل کے مخالفین کے طور پر پیش کرنا آنے والے قانون ساز انتخابات میں ان کے لیے سیاسی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تل ابیب کی مرکزی شاہراہ پر ایک بڑے انتخابی اشتہار میں ترک صدر رجب طیب اردوان کو ایران، حزب اللہ اور نیویارک کے میئر کے ساتھ اسرائیل کے مخالفین کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
فرانسس ریکارڈون کے مطابق اشتہار میں یہ پیغام بھی درج تھا کہ اردوان نیتن یاہو کو شکست دینا چاہتے ہیں اور انہیں کامیاب نہیں ہونے دینا چاہتے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق انتخابی اشتہارات سامنے آنے کے چند روز بعد شام میں اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان فوجی کشیدگی کا معاملہ بھی نمایاں ہوگیا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے شمالی شام میں ابو الظاہر ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف تھا کہ کارروائی کا مقصد شام میں ترکیہ کی مبینہ بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی کو روکنا تھا۔
ترکیہ نے اسرائیلی مؤقف کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔
اسرائیلی انتخابات میں دو ماہ سے بھی کم وقت باقی رہنے کے باعث نیتن یاہو کی انتخابی مہم اور شام میں ہونے والی کارروائی کے وقت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سابق امریکی سفیر کے مطابق نیتن یاہو کئی دہائیوں سے خود کو اسرائیل کی سلامتی کے مضبوط محافظ کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں اور موجودہ صورتحال بھی ان کی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتی ہے۔
ترکیہ، امریکا اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے بعض سیاسی مخالفین نے بھی شام میں کارروائی کے وقت اور اس کے پسِ پردہ محرکات پر سوالات اٹھائے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع نے شام میں ترکیہ کی ممکنہ فوجی موجودگی کو اسرائیل کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں ترک فوجی موجودگی کو اس حد تک بڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ اسرائیل کے لیے خطرہ بن جائے۔
دوسری جانب ترکیہ کا کہنا ہے کہ وہ شام میں امن، استحکام اور خوش حالی کے قیام کے لیے شامی حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔








