7 رَبيع الأوّل / August 20

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے امریکا نے ایک خفیہ بحری راستہ قائم کر رکھا ہے، جس کے ذریعے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل منتقل کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے ہر رات 15 سے 20 آئل ٹینکرز کی آمدورفت جاری ہے، جبکہ خام تیل کی ترسیل کے لیے ایک مخصوص بحری راستہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کی نگرانی فورٹ بریگ اور شمالی کیرولائنا سے کی جا رہی ہے، جبکہ امریکی ٹاسک فورس خلیجی خطے میں موجود شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

امریکی حکام کے مطابق آئل ٹینکرز مخصوص اوقات میں قافلوں کی صورت میں جنوبی راستے سے گزرتے ہیں اور امریکی فوج کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ امریکی لڑاکا طیارے تیل بردار جہازوں کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے ممکنہ خطرات کے خلاف تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔

حکام نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے پاس نہیں بلکہ امریکی فورسز کے پاس ہے۔

معاملے سے آگاہ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا گزشتہ دو ماہ سے آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے کو کنٹرول کر رہا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس خفیہ بحری انتظام کا مقصد خطے میں کشیدگی کے باوجود عالمی توانائی کی ترسیل کو جاری رکھنا ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز کی صورتحال اور تیل کی ترسیل سے متعلق ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔