118
سیکیورٹی خدشات کے باعث ٹرمپ کا ترکیہ سے خفیہ فوجی طیارے میں سفر، رپورٹ میں اہم انکشاف
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد ترکیہ سے برطانیہ واپسی کے لیے مبینہ طور پر ایک خفیہ فوجی پرواز کا استعمال کیا، جس کا مقصد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ان کے سفر کو خفیہ رکھنا تھا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے انقرہ سے روانگی…
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد ترکیہ سے برطانیہ واپسی کے لیے مبینہ طور پر ایک خفیہ فوجی پرواز کا استعمال کیا، جس کا مقصد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ان کے سفر کو خفیہ رکھنا تھا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے انقرہ سے روانگی کے موقع پر پہلے میڈیا کی موجودگی میں پرانے ماڈل کے ایئر فورس ون میں سوار ہونے کا تاثر دیا، تاہم بعد میں انہیں ایئرپورٹ کے کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے امریکی فضائیہ کے C-32A طیارے میں منتقل کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق C-32A طیارہ برطانیہ کے RAF Mildenhall اڈے کی جانب روانہ ہوا اور رات تقریباً 10 بج کر 20 منٹ پر وہاں پہنچا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ایئر فورس ون اور میڈیا کو لے جانے والا طیارہ بھی برطانیہ پہنچ گیا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایئر فورس ون کو ممکنہ طور پر بطور ڈیکائے (Decoy) استعمال کیا گیا تاکہ صدر کی اصل موجودگی اور سفر کی سمت خفیہ رکھی جا سکے۔
رپورٹ میں ایک امریکی عہدیدار اور دیگر دستیاب مواد کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایئر فورس ون میں موجود صحافیوں کو کھڑکیوں کے شیڈ نیچے رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ صحافیوں اور وائٹ ہاؤس کے بعض اہلکاروں کو بھی کئی گھنٹوں تک یہی تاثر رہا کہ صدر ٹرمپ اسی طیارے میں موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ آپریشن مبینہ ایرانی قاتلانہ حملے کے خدشات کے تناظر میں کیا گیا۔ تاہم برطانیہ پہنچنے کے بعد ٹرمپ کو دوبارہ ایئر فورس ون میں کیسے منتقل کیا گیا، اس کی تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے طیارے کی سیکیورٹی پر اٹھنے والے سوالات کے جواب میں کہا کہ قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے طیارے میں صدر اور ان کے عملے کی حفاظت کے لیے اعلیٰ سطح کے سیکیورٹی پروٹوکول موجود ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر اسٹیو چیونگ نے کہا کہ امریکا کے متعدد دشمن ہیں اور صدر کی حفاظت کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔
امریکی اخبار کے مطابق پینٹاگون نے رپورٹ پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھی امریکی صدور کے حساس دوروں کے دوران خفیہ پروازوں اور سیکیورٹی اقدامات کا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2000ء میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے دورۂ پاکستان کے موقع پر بھی خفیہ پرواز استعمال کی گئی تھی۔








