2 شَعْبان / January 21

جرمنی کی کرائیونکس کمپنی ‘ٹومارو بائیو’ نے لوگوں کو موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کی پیشکش کی ہے، جس کی لاگت دو لاکھ امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ یہ کمپنی لاشوں کو منجمد کرنے کے لیے ایک خاص تکنیک استعمال کرتی ہے، تاکہ مستقبل میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زندگی دوبارہ بحال کی جا سکے۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ان کا طریقہ کار جدید سائنسی تحقیق پر مبنی ہے۔ جب کوئی مریض اپنی زندگی کے آخری لمحات میں ہوتا ہے، تو ٹومارو بائیو کی ایمبولینس اسے لے کر اپنی لیب منتقل کرتی ہے۔ موت کے قانونی اعلان کے بعد لاش کو فوری طور پر منفی درجہ حرارت پر فریز کر کے ایک خاص مائع، کرائیو پروٹیکٹو، کے ذریعے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔

کمپنی کے شریک بانی ایمل کینڈزیورا کا کہنا ہے کہ کرائیونکس کا مقصد مریضوں کو مستقبل میں دوبارہ زندگی دینے کا موقع فراہم کرنا ہے، جب سائنس نینو ٹیکنالوجی اور نیوروسائنس کے میدان میں مزید ترقی کر لے گی۔

اب تک اس کمپنی نے تین سے چار افراد اور پانچ پالتو جانوروں کو منجمد کیا ہے، جبکہ 700 افراد نے اس سروس کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔

تاہم، نیورو سائنس کے ماہرین اس نظریے کو غیر معقول اور ناقابلِ عمل قرار دیتے ہیں۔ کنگز کالج لندن کے پروفیسر کلیو کوئن کے مطابق انسانی دماغ انتہائی پیچیدہ ہے، اور ایسی کوئی سائنسی تحقیق موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ موت کے بعد زندہ کیا جا سکتا ہے۔

کرائیونکس کے حامی ماضی کے چند کیسز کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں، جیسے 1999 میں ناروے کی اینا بیگنہوم کو دو گھنٹے تک مردہ قرار دیے جانے کے بعد بچایا گیا تھا۔ تاہم، یہ کیسز صرف دل کی دھڑکن کو بحال کرنے سے متعلق ہیں، مکمل موت کے بعد زندگی کی بحالی سے نہیں۔

اب تک کسی منجمد لاش کو کامیابی سے زندہ نہیں کیا جا سکا ہے، اور یہ سوال باقی ہے کہ آیا کرائیونکس واقعی مستقبل میں زندگی دینے کا ذریعہ بن سکے گا یا یہ محض ایک خواب ہے۔

Tags