23 رَبيع الأوّل / September 05

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ انہیں معلوم نہیں کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ امریکا میں نومبر کے مڈٹرم انتخابات تک ختم ہوگی یا نہیں۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ چین ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی کوششوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

امریکی نائب صدر کے مطابق چین ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے، اس لیے بیجنگ تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی واشنگٹن کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

جے ڈی وینس نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ایران کے آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملوں کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کا اسٹریٹیجک اختیار عملی طور پر ختم ہو چکا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ایران بحری جہازوں پر فائرنگ بند نہیں کرتا، امریکا تہران کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا۔ جے ڈی وینس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔

ایران میں شادی کی تقریب پر مبینہ حملے سے متعلق سوال پر امریکی نائب صدر نے کہا کہ امریکا اپنی فوجی کارروائیوں میں عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا۔ ان کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹس پر شکوک و شبہات موجود ہیں اور امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

جے ڈی وینس کے بیان کے مطابق ایران جنگ کے دورانیے کے حوالے سے فی الحال کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا جا سکتا، جبکہ جنگ کے خاتمے اور سفارتی رابطوں سے متعلق آئندہ کی صورتحال خطے میں ہونے والی پیش رفت پر منحصر ہوگی۔