25 صَفَر / August 08

لندن: برطانیہ کے ایک فوجی تربیتی کالج میں خواتین اہلکاروں کے ساتھ مبینہ جنسی ہراسانی، بدسلوکی اور تشدد کے سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد نیا اسکینڈل کھڑا ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ادارے میں 176 شکایات درج کی گئیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق شمالی یارکشائر کے علاقے ہاروگیٹ میں واقع فوجی تربیتی کالج کی سابق زیرِ تربیت خواتین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں دورانِ تربیت جنسی ہراسانی، تشدد اور نامناسب رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔

متاثرہ خواتین کے مطابق یہ واقعات اس وقت پیش آئے جب ان کی عمریں صرف 17 سال تھیں۔ بعض خواتین نے الزام عائد کیا کہ انہیں ساتھی اہلکاروں کی جانب سے شدید جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد انہوں نے فوج چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری 2018ء سے جون 2025ء تک ادارے میں نامناسب جنسی رویوں سے متعلق 176 شکایات درج ہوئیں، جن میں 32 شکایات مستقل عملے کے سینئر ارکان جبکہ 144 شکایات زیرِ تربیت فوجیوں کے خلاف تھیں۔

بی بی سی کے مطابق متاثرہ خواتین نے بعض تربیتی افسران پر بھی خواتین کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے، نامناسب تبصرے کرنے اور غیر پیشہ ورانہ رویہ اختیار کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

اس معاملے پر برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ایما لیویل نے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا واقعہ کسی اور ادارے میں پیش آتا تو فوری کارروائی کی جاتی۔

دوسری جانب برطانوی فوج نے الزامات کو انتہائی سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوج میں کسی بھی قسم کے مجرمانہ یا ناقابلِ قبول رویے کی کوئی گنجائش نہیں، جبکہ متاثرہ افراد کے تحفظ اور شکایات کے ازالے کے لیے اصلاحاتی اقدامات اور آزاد نظام موجود ہے۔