118
ایران جنگ کے دوران امریکی اسلحہ ذخائر پر تنازع، وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے میڈیا رپورٹس مسترد کر دیں
واشنگٹن: ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکی اسلحہ ذخائر سے متعلق سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس پر نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے اسلحے کی قلت پر وضاحت طلب کی، تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے ان…
واشنگٹن: ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکی اسلحہ ذخائر سے متعلق سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس پر نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے اسلحے کی قلت پر وضاحت طلب کی، تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے کابینہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں، فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز اور دیگر اہم ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ دفاع سے وضاحت طلب کی۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ اسلحے کی کمی کے باعث ایران کے خلاف مزید بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے ممکنہ آپشنز محدود ہو گئے تھے، جبکہ بعض جدید ہتھیاروں کی دوبارہ تیاری میں دو سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس کے دوران وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس معاملے کی ذمہ داری نائب وزیرِ دفاع اسٹیفن فائنبرگ پر عائد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ صدر کو اسلحہ ذخائر کی مکمل صورتحال سے بروقت آگاہ نہیں رکھا گیا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان رپورٹس کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کو وزیرِ دفاع پر مکمل اعتماد ہے۔ اسی طرح پینٹاگون نے بھی واضح کیا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کے بارے میں کسی قسم کی گمراہ کن معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور میڈیا میں گردش کرنے والے دعوے حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔








