23 صَفَر / August 06

تہران/واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان ایک بار پھر حملوں کے تبادلے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جبکہ خطے میں سیکیورٹی خدشات اور جنگ کے پھیلنے کے امکانات پر عالمی تشویش بڑھ گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف نئی عسکری کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی مفادات کو نشانہ بنایا، جبکہ امریکا نے ایرانی اہداف پر جوابی کارروائی کا مؤقف اختیار کیا ہے۔

تازہ کشیدگی کے باعث خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں، بحری راستوں اور اہم تنصیبات کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

دوسری جانب عالمی برادری نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے، کیونکہ مسلسل عسکری کارروائیاں مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈی، تیل کی قیمتوں اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں