118
ٹرمپ کا ایران کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان، جوہری ہتھیار روکنا امریکا کی اولین ترجیح قرار
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں مزید شدت سے جاری رکھے گا اور واشنگٹن کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ریاست میری لینڈ میں واقع کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ…
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں مزید شدت سے جاری رکھے گا اور واشنگٹن کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
ریاست میری لینڈ میں واقع کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس تنازع میں کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے اور اسی مقصد کے تحت کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا جہاں ممکن ہو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ان کے بقول ایران کو شدید عسکری نقصان پہنچ رہا ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف حملے مزید سخت کیے جائیں گے اور ایک وقت ایسا آئے گا جب ایران مزید مزاحمت جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے گا۔
انہوں نے ان خبروں کو بھی مسترد کیا جن میں ایران کو اب بھی مضبوط پوزیشن میں قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی موجودہ صورتحال انتہائی کمزور ہے اور ماضی میں اس کے ساتھ مذاکرات کا تجربہ اطمینان بخش نہیں رہا۔
ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ انہیں اب تہران پر اعتماد نہیں رہا کیونکہ، ان کے بقول، ایران نے مذاکرات کے دوران بھی جارحانہ اقدامات جاری رکھے۔
ٹرمپ نے بتایا کہ ایران سے مذاکراتی عمل میں ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، مشیر جیرڈ کشنر، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو شامل ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکا نے ایران کے مختلف علاقوں میں متعدد فوجی کارروائیاں کی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے والی ایرانی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے، جبکہ ایران نے ان حملوں کے ردعمل میں خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔








