26 رَبيع الأوّل / September 08

یمن میں حکومتی افواج اور حوثیوں کے درمیان جاری لڑائی میں شدت آنے کے بعد شہریوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین کے مطابق 3 ستمبر سے دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے بعد یمن کے شہروں تعز اور حدیدہ میں اب تک 18 ہزار 500 افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ لڑائی کے باعث متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونا پڑ رہا ہے، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

رواں برس کے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق یمن میں کئی برس سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں اندرونِ ملک بے گھر افراد کی تعداد 52 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

یمن میں طویل عرصے سے جاری تنازع کے باعث شہری آبادی کو خوراک، رہائش اور بنیادی سہولیات سمیت مختلف انسانی مسائل کا سامنا ہے، جبکہ حالیہ لڑائی نے متاثرہ افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔