26 رَبيع الأوّل / September 08

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات اور تنصیبات تک رسائی نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کو بتایا کہ ایران نے حالیہ رپورٹنگ مدت کے دوران اپنے اعلان کردہ جوہری مواد اور تنصیبات کی موجودہ صورتحال سے متعلق مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کیں۔

رافائل گروسی کے مطابق آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو بھی ایرانی جوہری تنصیبات میں موقع پر جاکر تصدیق کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے باعث ایجنسی کے لیے ایران کے جوہری پروگرام کی مکمل صورتحال کا جائزہ لینا مشکل ہوگیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جون 2025 میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والی ایرانی جوہری تنصیبات میں موجود 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم کے ذخیرے سے متعلق آئی اے ای اے کا معلوماتی تسلسل ایک سال سے زائد عرصے سے متاثر ہے۔

گروسی نے معلومات اور رسائی کی کمی کو جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال کو فوری طور پر درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ایران کو آئی اے ای اے کے ساتھ مؤثر تعاون بحال کرنا چاہیے۔

دوسری جانب فرانس، جرمنی، برطانیہ اور امریکا نے آئی اے ای اے سے ایران کے جوہری معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو رپورٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق چاروں مغربی ممالک آئی اے ای اے کے 35 رکنی بورڈ آف گورنرز سے ایک قرارداد منظور کرانے کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجوزہ قرارداد کے نتیجے میں ایران کا جوہری معاملہ تقریباً دو دہائیوں بعد دوبارہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجے جانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب ایران نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تازہ صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تہران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون اور جوہری تنصیبات تک معائنہ کاروں کی رسائی پر توجہ مرکوز ہے۔