119
ایران میں شادی کی تقریب پر حملے کا دعویٰ، پاسدارانِ انقلاب کا امریکی قیادت سے احتساب کا مطالبہ
ایران میں شادی کی ایک تقریب کو امریکی حملے کا نشانہ بنائے جانے کے دعوے کے بعد معاملہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ حملے کے ذمہ دار امریکی حکام کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر…
ایران میں شادی کی ایک تقریب کو امریکی حملے کا نشانہ بنائے جانے کے دعوے کے بعد معاملہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ حملے کے ذمہ دار امریکی حکام کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل احمد واحدی نے دعویٰ کیا ہے کہ شادی کی تقریب پر ہونے والے مبینہ امریکی حملے کا جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بے گناہ شہریوں کا خون بہانے والے افراد سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔ بیان کے مطابق سیرک کے علاقے میں شادی کی تقریب کے گھر پر میزائل حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں شادی کا گھر مبینہ طور پر ماتم کدے میں تبدیل ہوگیا۔
جنرل احمد واحدی کے مطابق مبینہ حملے میں 4 افراد جاں بحق جبکہ 70 زخمی ہوئے، جن میں سے 7 زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ عالمی سطح پر ردعمل سامنے آنے کے باوجود امریکی فوج اور حکام مبینہ حملے کی ذمہ داری تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ بیان میں امریکی مؤقف کو بھی مسترد کیا گیا کہ حملے میں ایرانی شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں افغانستان اور عراق میں شادی کی تقریبات پر ہونے والے سابقہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایسے واقعات کا مقصد شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات پر معذرت کرنے کے بجائے امریکی قیادت مبینہ طور پر حملوں سے متعلق حقائق سے انکار کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ شادی کی تقریب پر مبینہ حملے، ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق مذکورہ تفصیلات پاسدارانِ انقلاب کے بیان پر مبنی ہیں، جبکہ امریکی فریق کی جانب سے ان الزامات کی تردید یا وضاحت کی صورت میں معاملے کی مزید تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں۔








