119
سکندر آباد میں فوجی اسلحہ خانے سے جدید ہتھیار غائب، 4 افراد زیرِ حراست
بھارتی شہر سکندر آباد کے علاقے بولارم میں مدراس رجمنٹ کے فوجی اسلحہ خانے سے جدید ہتھیار اور گولہ بارود غائب ہونے کے معاملے پر 4 افراد کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق زیرِ حراست افراد میں فوج کا شہری عملہ بھی شامل ہے۔ حکام نے…
بھارتی شہر سکندر آباد کے علاقے بولارم میں مدراس رجمنٹ کے فوجی اسلحہ خانے سے جدید ہتھیار اور گولہ بارود غائب ہونے کے معاملے پر 4 افراد کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق زیرِ حراست افراد میں فوج کا شہری عملہ بھی شامل ہے۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات کے لیے متعدد اداروں پر مشتمل مشترکہ ٹیم تشکیل دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسلحہ خانے سے مجموعی طور پر 5 رائفلیں اور 7 پستول غائب ہوئے ہیں۔ چوری شدہ ہتھیاروں میں اے کے-203 اور انساس رائفلیں بھی شامل بتائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 21 میگزین اور بڑی تعداد میں گولیاں بھی لاپتا ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق فوجی حکام کی شکایت میں بتایا گیا ہے کہ اسلحے اور گولہ بارود کا آخری مرتبہ 30 اگست کو باقاعدہ حساب کیا گیا تھا۔
واقعے کا انکشاف 31 اگست 2026 کی صبح تقریباً 8 بجے ہوا، جب معمول کے مطابق اسلحہ خانہ کھولا گیا تو گولہ بارود رکھنے والے کمرے کے تالے ٹوٹے ہوئے پائے گئے۔
اس کے بعد فوجی یونٹ نے تمام ہتھیاروں اور گولہ بارود کی دوبارہ گنتی کی، متعلقہ ریکارڈ اور رجسٹرز کی جانچ کی اور اسلحہ خانے سمیت قریبی علاقوں میں تلاشی کا عمل شروع کر دیا۔
واقعے کی سنگینی کے پیشِ نظر فوجی انٹیلی جنس، مرکزی تحقیقاتی اداروں، تلنگانہ پولیس کے اعلیٰ افسران اور تلنگانہ کاؤنٹر انٹیلی جنس سمیت متعدد اداروں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسلحہ خانے تک رسائی رکھنے والے اہلکاروں کی فہرست بھی تیار کی گئی ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، جبکہ بعض ضروری مقامات کو سیل کر دیا گیا ہے۔
حکام کو خدشہ ہے کہ غائب ہونے والے ہتھیار اور گولہ بارود غیر مجاز افراد تک پہنچ سکتے ہیں، جس کے پیش نظر ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائی جاری ہے۔
پولیس سے چوری، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے مزید قانونی کارروائی کی درخواست بھی کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ہتھیاروں کی چوری اور زیرِ حراست افراد سے متعلق تفصیلات بھارتی میڈیا اور حکام کے حوالے سے سامنے آئی ہیں، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔








