118
ایران میں 6 ماہ کی جنگ کے اثرات، مہنگائی اور بنیادی سہولتوں کی قلت نے عوام کو گھیر لیا
امریکا اور اسرائیل کے ساتھ 6 ماہ سے جاری جنگ کے باعث ایران میں عام شہریوں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ مہنگائی، آمدنی میں کمی اور بنیادی اشیاء کی قلت نے عوامی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ جنگ، سخت معاشی پابندیوں، بدانتظامی اور بدعنوانی کے باعث ایرانی معیشت پر دباؤ مزید…
امریکا اور اسرائیل کے ساتھ 6 ماہ سے جاری جنگ کے باعث ایران میں عام شہریوں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ مہنگائی، آمدنی میں کمی اور بنیادی اشیاء کی قلت نے عوامی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔
جنگ، سخت معاشی پابندیوں، بدانتظامی اور بدعنوانی کے باعث ایرانی معیشت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے طویل ہونے سے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کا آغاز 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا تھا۔ ان حملوں میں ایرانی قیادت، پاسدارانِ انقلاب اور دیگر اہم اداروں سے وابستہ متعدد اعلیٰ عہدیداروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شدید حملوں کے باوجود ایرانی حکومت برقرار رہی، جبکہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا رہبر منتخب کیا گیا۔ تاہم مجتبیٰ خامنہ ای تاحال منظرِ عام پر نہیں آئے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کے درمیان جنگ کے مستقبل کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک حلقہ سفارتی حل کا خواہاں ہے جبکہ دوسرا امریکا کے خلاف جنگ جاری رکھنے کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم دونوں حلقوں میں اس بات پر اتفاق بتایا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے سامنے پسپائی اختیار نہیں کی جائے گی۔
ایران کے مطابق آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راستہ کھولنے کے لیے عمان کے ساتھ مفاہمت ہوئی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ مبینہ طور پر اس انتظام کی مخالفت کر رہی ہے اور آبنائے ہرمز کو مکمل اور بلا رکاوٹ کھولنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام سمیت کئی اہم معاملات پر بھی فریقین کے درمیان اختلافات برقرار ہیں، جبکہ مذاکرات میں تاحال نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی معیشت جنگ سے قبل بھی کئی برسوں کی پابندیوں، بدانتظامی اور بدعنوانی کے باعث مشکلات کا شکار تھی، تاہم جنگ نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
ایرانی شماریاتی مرکز کے اعداد و شمار کے مطابق 22 اگست کو ختم ہونے والے ایرانی مہینے مرداد میں سالانہ مہنگائی 89 فیصد جبکہ اشیائے خورونوش کی مہنگائی 127 فیصد سے تجاوز کر گئی۔
مہنگائی میں اضافے کے باعث عام شہریوں کی قوتِ خرید متاثر ہوئی ہے، جبکہ بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافے نے ایرانی عوام کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔








