29 صَفَر / August 12

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملے میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ تجارتی جہاز پر حملے سے بے گناہ انسانی جانوں اور بحری سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور آزادانہ جہاز رانی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان سعودی حکام اور یمن کی تسلیم شدہ حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ واقعے کی مزید تفصیلات اور حالات سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکیں۔

انہوں نے ریاض میں پاکستانی سفارت خانے کو ہدایت کی ہے کہ جاں بحق پاکستانی شہریوں کی میتوں کی وطن واپسی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان بحیرہ احمر کی صورتحال کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے اور متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گا۔

تجارتی جہاز پر حملہ افسوسناک ہے: دفتر خارجہ

دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق پاکستان بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان سعودی قیادت میں بحری سلامتی کے حوالے سے قائم اتحاد کا حصہ ہے اور بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ جہاز رانی کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ یمنی حکومت اور کوسٹ گارڈ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز بحیرہ احمر میں باب المندب کے قریب ایک کارگو جہاز کو حوثیوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عملے کے 3 ارکان ہلاک ہوئے۔