21 صَفَر / August 04

اسلام آباد: ملک بھر میں نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر مرکزی جلوس اور مجالس عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد کی جا رہی ہیں۔ مختلف شہروں میں جلوس اپنے مقررہ راستوں پر رواں دواں ہیں، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔

کراچی میں مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا، جہاں جلوس کے آغاز سے قبل مجلس کا انعقاد کیا گیا۔ جلوس اپنے روایتی راستوں سے گزرتا ہوا مقررہ مقام پر اختتام پذیر ہوگا۔ جلوس کی سیکیورٹی کے لیے 5 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ متعدد شاہراہوں کو کنٹینرز اور بیریئرز لگا کر بند کیا گیا ہے۔ کراچی پولیس کے اعلیٰ حکام نے بھی جلوس کے روٹس کا دورہ کر کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔

لاہور میں مرکزی جلوس حویلی الف شاہ، اندرون دہلی گیٹ سے برآمد ہوا، جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ پہنچے گا۔ جلوس کی حفاظت کے لیے 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہیں، جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں، ڈرون نگرانی، اسنائپرز اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے جدید مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

راولپنڈی میں مرکزی جلوس امام بارگاہ عاشق حسین سے برآمد ہوا، جہاں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ عزاداروں کو پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔

کوئٹہ میں بھی علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاؤن سے مرکزی جلوس نکالے گئے ہیں۔ پولیس اور ایف سی کے 1700 سے زائد اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ جلوس کے راستوں پر سخت چیکنگ، سی سی ٹی وی مانیٹرنگ اور کوئیک رسپانس فورس کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے۔ سیکیورٹی وجوہات کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔

انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ٹریفک پلان اور سیکیورٹی ہدایات پر عمل کریں، متبادل راستے اختیار کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں تاکہ چہلمِ شہدائے کربلا کے اجتماعات پرامن انداز میں اختتام پذیر ہو سکیں۔

متعلقہ خبریں