98
جلاؤ گھیراؤ کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت نے آفاق احمد کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے چیئرمین آفاق احمد کو جلاؤ گھیراؤ اور دہشت گردی کے مقدمات میں گرفتار ہونے کے بعد عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ آفاق احمد کو پولیس کی سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان کے خلاف عوامی کالونی…
کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے چیئرمین آفاق احمد کو جلاؤ گھیراؤ اور دہشت گردی کے مقدمات میں گرفتار ہونے کے بعد عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ آفاق احمد کو پولیس کی سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان کے خلاف عوامی کالونی اور لانڈھی میں جلاؤ گھیراؤ اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔ ان مقدمات میں آفاق احمد سمیت 15 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ جلائے گئے ڈمپر کے ڈرائیور اور کنڈیکٹر لاپتہ ہیں اور ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا کہ وہ آفاق احمد کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ عدالت نے کیس کی دہشت گردی کے تحت درجہ بندی کے بارے میں استفسار کیا جس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ آفاق احمد کی وجہ سے پوری ٹرانسپورٹر برادری خوف میں مبتلا ہے۔ آفاق احمد کے وکیل نے اس موقف کا جواب دیا کہ وہ خود خوف میں ہیں کیونکہ لوگ ڈمپرز کے نیچے کچلے جا رہے ہیں۔
آفاق احمد کو گزشتہ روز ان کی رہائشگاہ سے گرفتار کیا گیا تھا اور اس بات کی تصدیق آئی جی پولیس غلام نبی میمن نے کی تھی کہ انہیں شہر میں ہیوی ٹرانسپورٹ کو نذر آتش کرنے اور عوام کو اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس افسران کے مطابق، لانڈھی میں کچھ افراد نے سامان لے جانے والی ہیوی ٹرانسپورٹ کو ہائی جیک کیا اور پھر اسے پارٹی کے دفتر لے جا کر آگ لگا دی۔
کراچی میں گزشتہ روز شہریوں نے ہیوی ٹریفک کے خلاف احتجاج کیا، جس کے دوران مختلف علاقوں میں 4 ٹرک جلائے گئے اور سخی حسن میں واٹر باؤزر پر حملہ کیا گیا۔ احتجاج کے دوران ٹرانسپورٹرز نے شہر کے داخلی راستوں پر گاڑیاں کھڑی کر دیں اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے ٹینکر سروس معطل کر دی۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
آفاق احمد نے اس احتجاج اور ہیوی ٹریفک کے حوالے سے انتظامیہ کی وضاحت کو گمراہ کن قرار دیا اور کہا تھا کہ دن کے اوقات میں ڈمپرز، ٹینکرز اور ہیوی ٹریفک پولیس کی سرپرستی میں شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ شہریوں کی حفاظت کے لیے انہوں نے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا۔








