12 رَبيع الأوّل / August 25

تہران: ایران نے امریکا کی جانب سے نئی اور سخت معاشی پابندیوں کے اعلان سے قبل خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک واشنگٹن کی ’معاشی جنگ‘ میں شامل ہوا، اسے ایران دشمن تصور کیا جائے گا۔

ایرانی حکام کے مطابق ایسے ممالک کے ساتھ پہلے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاہم اگر وہ امریکا کا ساتھ جاری رکھتے ہیں تو ایران ان کے مفادات کے خلاف جوابی اقدامات کرسکتا ہے۔

تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز اور خلیج سے تیل کی برآمد مکمل طور پر روکنے سمیت دیگر ممکنہ اقدامات کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ایرانی امور کے ماہر حامد رضا عزیزی کا کہنا ہے کہ تہران اب ممکنہ حملے یا معاشی دباؤ سے قبل ہی اپنے ردِعمل کا پیغام دے کر مخالفین کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تجزیے کے مطابق ایران کی نئی حکمتِ عملی میں پیشگی کارروائی اور غیر متناسب جوابی حملہ شامل ہوسکتا ہے، جس کا مقصد کسی بھی مخالفانہ اقدام کی قیمت کو بہت زیادہ بڑھانا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ایرانی دھمکی کو خلیجی ممالک کے لیے واضح انتباہ اور دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک ایک طرف ایران کے پڑوسی ہیں تو دوسری جانب امریکا کے اہم اتحادی بھی ہیں، جس کے باعث وہ دونوں جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان ہیں۔

ایرانی حملوں اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث ان ممالک کی تیل اور گیس کی برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

تجزیے کے مطابق خلیجی ریاستیں ایران کے ساتھ مکمل محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہتی ہیں، کیونکہ جغرافیائی طور پر انہیں ایران کے ساتھ رہنے اور تجارتی تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

متحدہ عرب امارات نے 2022 میں ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے تھے، تاہم گزشتہ ہفتے ایران پر میزائل حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تجارت روکنے کا اعلان کیا، جبکہ تہران نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔

سعودی عرب اور ایران نے بھی 2023 میں چین کی ثالثی سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے معاہدہ کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اب تک کی سخت ترین معاشی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے تجارتی شراکت داروں پر بھی دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔

امریکا خاص طور پر چین سے ایران کے خلاف تعاون چاہتا ہے، کیونکہ چین ایران کی تیل برآمدات کا بڑا خریدار ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ وہ امریکی معاشی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا، جبکہ واشنگٹن ایران کے معاشی وسائل اور عالمی تجارت تک اس کی رسائی محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلیجی ممالک امریکا کی معاشی جنگ میں شامل ہوئے تو خلیج سے تیل کی برآمد روکنے جیسے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے علاوہ خلیج سے تیل کی برآمد کے متبادل راستوں کو بھی نشانہ بنانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس تناظر میں بحیرۂ احمر تک جانے والے باب المندب کے راستے کو بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں معمول کے حالات میں دنیا کے تیل اور گیس کے تقریباً 20 فیصد حصے کی نقل و حمل ہوتی ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی اقتصادی و جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔