21 صَفَر / August 04

واشنگٹن: امریکی ڈیموکریٹ رہنما اور مشی گن سے سینیٹ امیدوار عبدالرحمٰن محمد السید نے اسرائیل کے لیے امریکی امداد، اسلاموفوبیا اور یہود دشمنی سے متعلق اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی غیر ملکی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو یہود دشمنی قرار دینا درست نہیں۔

امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے عبدالرحمٰن السید نے کہا کہ کسی غیر ملکی حکومت کے اقدامات کے دفاع کے لیے یہود دشمنی کے خدشے کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خود یہودی امریکی شہریوں کے مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہود دشمنی اور اسلاموفوبیا دونوں قابلِ مذمت ہیں اور معاشرے کو ان دونوں تعصبات کے خلاف یکساں مؤثر انداز میں کھڑا ہونا چاہیے۔

عبدالرحمٰن السید نے سوال اٹھایا کہ امریکا کی سالانہ اربوں ڈالر کی امداد کس مقصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے، اور کہا کہ کسی بھی حکومت کو غیر مشروط فوجی امداد فراہم نہیں کی جانی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو گزشتہ چند برسوں کے دوران ہونے والے تنازعات میں غیر ضروری طور پر شامل نہیں ہونا چاہیے تھا، جبکہ ملکی وسائل عوامی فلاح، صحت اور بنیادی سہولیات پر خرچ کیے جانے چاہییں۔

مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار نے خود کو روایتی سیاسی نظام اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کا متبادل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ صحت کے نظام میں اصلاحات، عوام کے طبی قرضوں کے خاتمے اور عام شہریوں کی فلاح کے لیے عملی اقدامات کے ایجنڈے کے ساتھ میدان میں ہیں۔

متعلقہ خبریں