16 صَفَر / July 30

واشنگٹن: سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، ایران سے بڑھتی کشیدگی اور علاقائی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقاتوں سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ شہزادہ خالد بن سلمان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی پیغام امریکی قیادت تک پہنچایا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور دوطرفہ تعاون سے متعلق اہم نکات شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کے دوران سعودی وزیرِ دفاع نے واضح کیا کہ مملکت ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بجائے تنازع کے پُرامن حل اور خطے میں استحکام کی خواہاں ہے۔

رپورٹس کے مطابق خالد بن سلمان نے امریکی حکام کو بتایا کہ ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی توانائی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد مملکت نے اپنے دفاع کے حق کے تحت کارروائی کی، تاہم اس کا مقصد خطے میں کشیدگی بڑھانا نہیں تھا۔

امریکی میڈیا کے مطابق سعودی وزیرِ دفاع نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ایران کے خلاف سخت مؤقف اپنانے کے حامی ہیں، جبکہ سعودی عرب سفارتی ذرائع سے کشیدگی میں کمی کو زیادہ مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے عراق میں اپنے ردعمل کے ذریعے ایران نواز حوثی گروپ کو بھی واضح پیغام دیا کہ مملکت کے خلاف حملوں سے گریز کیا جائے۔ سعودی وزیرِ دفاع نے امریکی نائب صدر کو آگاہ کیا کہ سعودی عرب حوثیوں سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور موجودہ مرحلے پر امریکا کی براہِ راست فوجی مداخلت کی ضرورت نہیں، جبکہ حوثی گروپ کے ساتھ سفارتی رابطے اور مذاکرات بھی جاری ہیں۔

تاہم ان ملاقاتوں سے متعلق امریکی وائٹ ہاؤس یا سعودی حکومت کی جانب سے باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، جبکہ امریکی میڈیا میں سامنے آنے والی معلومات ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کی گئی ہیں۔