4 رَبيع الثاني / September 15

بیجنگ: چین کے وزیرِ مملکت برائے سلامتی چن یی شن نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) تیزی سے قومی سلامتی کے لیے ایک اہم خطرہ بنتی جا رہی ہے اور بیرونی طاقتیں اس ٹیکنالوجی کو سماجی نظم و نسق اور معلوماتی ماحول کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔

چن یی شن نے ایک مضمون میں کہا کہ دشمن قوتیں مصنوعی ذہانت کی تخلیقی ٹیکنالوجیز کا غلط استعمال کرتے ہوئے سیاسی افواہیں پھیلانے اور گمراہ کن معلومات تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق بیرونی طاقتیں چین کے خلاف رائے عامہ اور ادراکی جنگ کے لیے مصنوعی ذہانت کو استعمال کر رہی ہیں، جو چین کی سیاسی، ادارہ جاتی اور نظریاتی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب عالمی تکنیکی مسابقت کا مرکزی میدان بن چکی ہے اور بڑی طاقتوں کے درمیان تزویراتی مسابقت کے ایک نئے محاذ کی حیثیت اختیار کر رہی ہے۔

چینی وزیرِ سلامتی نے دعویٰ کیا کہ غیر ملکی خفیہ ادارے ذہین ویب کرالرز، ڈیٹا مائننگ اور پروفائلنگ جیسی ٹیکنالوجیز کا بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں، جن کے ذریعے قومی سطح کے اہم ڈیٹا، تجارتی راز اور شہریوں کی نجی معلومات سمیت حساس معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے پیدا ہونے والے خطرات کے تناظر میں حساس معلومات اور اہم قومی ڈیٹا کے تحفظ پر زور دیا۔

چن یی شن کے مطابق جدید جنگوں نے بھی فوجی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ جدید ٹیکنالوجی جنگی میدان میں فیصلہ کن برتری حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کو تکنیکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اہم بنیادی ٹیکنالوجیز پر اپنے کنٹرول کو یقینی بنانا ہوگا، جس میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کے لیے درکار جدید کمپیوٹر چپس بھی شامل ہیں۔

چینی وزیرِ سلامتی کا یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین اور امریکا کے درمیان مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مسابقت جاری ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان اے آئی کی حکمرانی، ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال اور قومی سلامتی سے متعلق خدشات پر بھی عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔

امریکی ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ بعض رہنماؤں کی جانب سے بھی مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ حفاظتی اقدامات، نگرانی اور ممکنہ خطرات پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا جاتا رہا ہے۔

چین کی جانب سے سامنے آنے والے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیکنالوجی اور اقتصادی ترقی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان قومی سلامتی اور تزویراتی مسابقت کا بھی اہم موضوع بن چکی ہے۔