3 رَبيع الثاني / September 14

کراچی: شہر کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں انفلوئنزا کے کیسز میں 20 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا ہے، جبکہ کورونا کے کیسز بھی مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔

ماہرِ امراضِ تنفس ڈاکٹر جاوید خان کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران کراچی میں انفلوئنزا کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نجی اسپتالوں میں انفلوئنزا سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب ہوتی ہے، تاہم رواں سال تاحال ویکسین دستیاب نہیں ہو سکی، جس کے باعث ہر سال ویکسین لگوانے والے افراد اس کے منتظر ہیں۔

ڈاکٹر جاوید خان کے مطابق کراچی میں کورونا کے کیسز بھی مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں اور ہر ہفتے تقریباً 3 سے 4 کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ موجودہ کورونا کیسز زیادہ تر ہلکی نوعیت کے ہیں، جبکہ بعض مریض ہلکے نمونیا کی علامات کے ساتھ اسپتال پہنچ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کورونا کے بیشتر مریض 2 سے 3 روز میں صحت یاب ہو جاتے ہیں، تاہم انفلوئنزا اور کورونا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔

ماہرِ امراضِ تنفس نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ بخار، کھانسی یا نزلہ زکام کی صورت میں دوسروں سے فاصلہ رکھا جائے اور بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر ماسک کا استعمال کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہری ہاتھوں کو باقاعدگی سے صابن سے دھوئیں، غیر ضروری طور پر آنکھوں، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کریں، جبکہ بیمار افراد ہجوم اور غیر ضروری اجتماعات میں جانے سے اجتناب کریں۔