119
پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو ہونے والے احتجاج کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم اس کے لیے کچھ قانونی شرائط بھی موجود ہیں۔ ان…
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو ہونے والے احتجاج کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم اس کے لیے کچھ قانونی شرائط بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادیٔ اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے، لیکن دیگر شہری حقوق اور قانونی تقاضوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس معاملے پر ضروری ہدایات جاری کرے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وزرائے اعلیٰ یا حکومتی نمائندے ایسی تقاریر کر سکتے ہیں؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسا حق کسی کو حاصل نہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے جواب الجواب میں مؤقف اختیار کیا کہ کیا نقصان ہونے کا انتظار کیا جائے؟ انہوں نے کہا کہ بعض بیانات میں 40 لاکھ افراد کے اسلام آباد آنے کی بات کی جا رہی ہے۔
وکیل کا کہنا تھا کہ اگر بڑی تعداد میں مظاہرین اسلام آباد میں داخل ہوئے تو وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی رہنما مسلسل اسلام آباد آنے کے اعلانات کر رہے ہیں، جبکہ سیاسی جماعت کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔








