119
کڈھن مبینہ پولیس مقابلہ، سابق پولیس سرجن نے پوسٹ مارٹم پر سوالات اٹھا دیے
بدین کے علاقے کڈھن میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران نوجوان کی ہلاکت کا معاملہ مزید متنازع ہوگیا ہے۔ سابق پولیس سرجن ڈاکٹر وقار احمد نے نوجوان کو لگنے والی گولیوں، پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار اور جائے وقوعہ سے متعلق پولیس کے مؤقف پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ڈاکٹر وقار احمد نے دعویٰ کیا…
بدین کے علاقے کڈھن میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران نوجوان کی ہلاکت کا معاملہ مزید متنازع ہوگیا ہے۔ سابق پولیس سرجن ڈاکٹر وقار احمد نے نوجوان کو لگنے والی گولیوں، پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار اور جائے وقوعہ سے متعلق پولیس کے مؤقف پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ڈاکٹر وقار احمد نے دعویٰ کیا کہ دستیاب پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نوجوان کے جسم سے گولیاں آرپار ہوئی ہیں، تاہم ان کے بقول ہوائی فائرنگ کی صورت میں اس طرح گولیوں کا جسم سے آرپار ہونا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ زخموں کی نوعیت سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ نوجوان کو تقریباً 8 سے 10 فٹ کے فاصلے سے گولیاں ماری گئی ہوں گی۔
سابق پولیس سرجن کو جائے وقوعہ اور نوجوان کی لاش ورثا کے حوالے کیے جانے سے متعلق ویڈیوز دکھائی گئیں تو انہوں نے پوسٹ مارٹم کے عمل پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ویڈیوز میں جسم پر پوسٹ مارٹم کے لیے کٹ لگنے کے واضح نشانات نظر نہیں آ رہے، جس سے انہیں شبہ ہے کہ مکمل پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا۔
ڈاکٹر وقار احمد کے مطابق ممکن ہے کہ میڈیکو لیگل افسر نے جسم کے بیرونی حصے کا جائزہ لے کر رپورٹ مرتب کی ہو، تاہم اس بارے میں حتمی رائے مکمل طبی اور قانونی تحقیقات کے بعد ہی قائم کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب پولیس نے کڈھن میں ہونے والے مبینہ مقابلے اور پوسٹ مارٹم کے عمل کو درست قرار دیا تھا، جبکہ مقتول نوجوان کے ورثا نے بھی واقعے کو جعلی پولیس مقابلہ قرار دیتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ 26 جولائی کو کڈھن میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران نوجوان کی ہلاکت کے بعد ورثا نے قبرکشائی اور معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اس حوالے سے ورثا کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ کے سرکٹ بینچ حیدرآباد میں سماعت 14 ستمبر کو مقرر ہے۔
مقدمے کی مزید پیش رفت اور عدالتی کارروائی کے بعد واقعے سے متعلق حقائق مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔








