118
دفترِ خارجہ کی وضاحت، عاصم منیر کا دورۂ ایران امریکی نمائندگی میں نہیں تھا
اسلام آباد: ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے واضح کیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا امریکا کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں تھا، بلکہ یہ دورہ پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کا حصہ تھا۔ ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ نے بتایا…
اسلام آباد: ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے واضح کیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا امریکا کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں تھا، بلکہ یہ دورہ پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کا حصہ تھا۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ نے بتایا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے 24 اگست کو ایران کا دورہ کیا، جس میں ایرانی حکام کے ساتھ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے کے لیے مخلصانہ اور تعمیری کردار ادا کرتا رہا ہے اور تنازع کے پُرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں کا مقصد خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار کرنا بھی ہے۔ ایرانی قیادت نے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے ایک سال کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی چیئرمین شپ سنبھال لی ہے اور 2027 میں اسلام آباد میں ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
ان کے مطابق وزیراعظم آئندہ بشکیک میں ہونے والی ایس سی او کانفرنس میں شرکت کریں گے اور کانفرنس کے موقع پر مختلف ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ وزیراعظم کے دورۂ بشکیک کی حتمی تاریخ اور پروگرام سے آئندہ دنوں میں آگاہ کیا جائے گا۔
طاہر حسین اندرابی کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے علاقائی صورتحال کے حوالے سے اپنے مختلف ہم منصبوں سے ٹیلیفونک رابطے جاری رکھے۔
انہوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے 14 اگست کو مصری وزیر خارجہ، 19 اگست کو اردن کے وزیر خارجہ، 20 اگست کو برازیل کے وزیر خارجہ اور 23 اگست کو ازبک وزیر خارجہ سے رابطہ کیا۔
ترجمان کے مطابق ترک وزیر خارجہ سے بھی 17، 19 اور 25 اگست کو متعدد مرتبہ رابطہ ہوا، جبکہ کویتی وزیر خارجہ سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی گئی۔ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی رابطہ کیا۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے مؤثر کردار کی حمایت جاری رکھے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن نے 19 اور 20 اگست کو پاکستان کا دورہ کیا، جو نئی شامی حکومت کے قیام کے بعد کسی شامی وزیر خارجہ کا پہلا دورۂ پاکستان تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ ریاستی سطح پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ افغان عبوری حکومت کو دوحہ فریم ورک سمیت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی اور ٹی ٹی پی، بی ایل اے سمیت پاکستان مخالف عناصر کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنا ہوگا۔
طاہر حسین اندرابی کے مطابق پاکستان افغانستان کے ساتھ ادارہ جاتی رابطے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس کے نتیجے میں قابلِ تصدیق انسدادِ دہشت گردی اقدامات سامنے آئیں۔ پاکستان مؤثر سرحدی انتظام اور عملی و قابلِ تصدیق پیش رفت کو مذاکراتی عمل میں اہمیت دیتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے بتایا کہ یہ خطے میں امن کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے دفاعی فریم ورک ہے۔
ان کے مطابق معاہدہ ان ممالک کے لیے کھلا ہے جو اجتماعی ذمہ داریوں اور مشترکہ سلامتی کے مفادات سے وابستگی کا اظہار کریں۔ کسی ملک کی جانب سے شمولیت کی باضابطہ درخواست موصول ہونے پر ریاض اور انقرہ میں شراکت داروں سے مشاورت کے بعد اس پر غور کیا جائے گا۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر عملدرآمد کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
ترجمان نے نیپال میں حالیہ سیلاب کے باعث ہونے والے جانی نقصان اور انفرااسٹرکچر کی تباہی پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ صدرِ مملکت، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم نے نیپال میں سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان پر تعزیت کا اظہار کیا ہے، جبکہ پاکستانی قوم نیپال کے متاثرہ عوام کے غم میں برابر کی شریک ہے۔








