12 رَبيع الأوّل / August 25

ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کی حکومت 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق بل آج پارلیمنٹ میں پیش کرنے جا رہی ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کی عالمی آمدن کے 10 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

بل میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا پابند بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے موجودہ اکاؤنٹ معلومات، چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل شناختی دستاویزات سمیت مختلف طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا بچوں کو نقصان دہ مواد، لت لگانے والی ٹیکنالوجی اور ایسے دباؤ سے دوچار کر رہا ہے جس سے نمٹنے کے لیے وہ ابھی تیار نہیں۔

کرسٹوفر لکسن کے مطابق سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات بچوں کی ذہنی صحت، نیند، تعلیم اور خاندانی زندگی پر بھی پڑ رہے ہیں۔

مجوزہ قانون کا مقصد کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھنا اور پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق کے حوالے سے زیادہ ذمہ دار بنانا ہے۔

اگر بل قانون کی شکل اختیار کرتا ہے تو نیوزی لینڈ ان ممالک میں شامل ہوجائے گا جو کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے سخت قانونی اقدامات کر رہے ہیں۔