12 رَبيع الأوّل / August 25

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوہر اور بیٹیوں پر مبینہ تشدد کے مقدمے میں نامزد خاتون کی ضمانت منظور کرلی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس سے متعلق 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جس میں عدالت نے 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظور کی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ فریقین کے درمیان تنازع بنیادی طور پر گھریلو اور خاندانی نوعیت کا معلوم ہوتا ہے، جبکہ دستیاب میڈیکل ریکارڈ میں ایسی کوئی چوٹ سامنے نہیں آئی جو جان لیوا ثابت ہوئی ہو۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے مطابق ملزمہ فلسفے میں پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر ہے اور اس کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی موجود نہیں۔

عدالت نے کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ملزمہ کی ضمانت منظور کرنے کا حکم جاری کیا۔

واضح رہے کہ ملزمہ کے خلاف تھانہ ویمن اسلام آباد میں شوہر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں شوہر اور بیٹیوں پر تشدد کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔