12 رَبيع الأوّل / August 25

تہران: امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف مزید سخت اقتصادی اقدامات کے اعلان کے بعد تہران نے بھی سخت ردِعمل دیتے ہوئے خلیج سے تیل کی برآمدات روکنے کی دھمکی دے دی ہے)

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف ’اقتصادی ڈی ڈے‘ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن تہران کی معیشت کو سہارا دینے والی باقی تمام معاشی کڑیاں توڑنے کے لیے اقدامات کرے گا۔ نئی پابندیوں کا ہدف ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات رکھنے والے ممالک اور ادارے بھی ہوسکتے ہیں۔ ()

امریکی اقدامات کے جواب میں ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی اقتصادی جنگ جاری رہی تو ایران خلیج سے تیل کی برآمدات مکمل طور پر روکنے کی پوزیشن اختیار کرسکتا ہے۔

محسن رضائی نے مزید خبردار کیا کہ جو ممالک امریکی پابندیوں اور اقتصادی جنگ کی حمایت کریں گے، انہیں تہران دشمن تصور کرسکتا ہے۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز کی صورتحال پر سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ عمان کے وزیرِ خارجہ سید بدر البوسعیدی ایران کا دورہ کریں گے، جہاں ایرانی حکام کے ساتھ آبنائے ہرمز اور خطے کی صورتحال پر بات چیت متوقع ہے۔

ادھر ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ایرانی فراہم کردہ خدمات کے عوض فیس وصول کرنے سے متعلق ایک مسودہ قانون کی منظوری بھی دی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل کی ترسیلی راستوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے اس کی صورتحال میں کسی بڑی تبدیلی سے عالمی توانائی منڈی اور تیل کی قیمتوں پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی اقتصادی کشیدگی کے باعث خطے میں امن، توانائی کی ترسیل اور عالمی معیشت پر اس کے ممکنہ اثرات پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔