118
نئی رائے شماری: ٹرمپ کی مقبولیت 35 فیصد تک گر گئی، معیشت پر عوامی اعتماد بھی کمزور
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں مزید کمی سامنے آئی ہے۔ نئی رائے شماری کے مطابق ان کی مجموعی کارکردگی کی مقبولیت 35 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ معاشی امور پر عوام کے اعتماد میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز اور اِپسوس کی مشترکہ سروے رپورٹ کے…
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں مزید کمی سامنے آئی ہے۔ نئی رائے شماری کے مطابق ان کی مجموعی کارکردگی کی مقبولیت 35 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ معاشی امور پر عوام کے اعتماد میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز اور اِپسوس کی مشترکہ سروے رپورٹ کے مطابق حالیہ مہنگائی، معاشی خدشات اور ایران سے متعلق کشیدگی کے بعد امریکی ووٹرز کی رائے میں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔
سروے کے نتائج کے مطابق معاشی معاملات پر ڈیموکریٹک پارٹی نے گزشتہ ایک دہائی میں پہلی مرتبہ ریپبلکن پارٹی پر برتری حاصل کی ہے۔ رجسٹرڈ ووٹرز میں 42 فیصد نے کہا کہ اگر آج انتخابات ہوں تو وہ ڈیموکریٹک امیدوار کی حمایت کریں گے، جبکہ 37 فیصد نے ریپبلکن پارٹی کے حق میں رائے دی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور معاشی دباؤ نے صدر ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کی عوامی حمایت کو متاثر کیا ہے، جس کے اثرات آئندہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
رائے شماری بدھ سے پیر تک کی گئی، جس میں 4,505 امریکی بالغ افراد نے حصہ لیا۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ نتائج میں معمولی حد تک شماریاتی فرق کی گنجائش موجود ہے۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سروے کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حقیقی عوامی مقبولیت میڈیا کی جانب سے پیش کیے جانے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔








