118
ایران کا دعویٰ: جنگ بندی کے دوران دفاعی صلاحیت، میزائل اور ڈرون پروگرام مزید مضبوط بنائے
تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ بندی کے دوران اس نے اپنی عسکری اور دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، اور اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ملک دوبارہ کسی بھی ممکنہ جنگی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان نے سرکاری…
تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ بندی کے دوران اس نے اپنی عسکری اور دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، اور اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ملک دوبارہ کسی بھی ممکنہ جنگی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے عرصے کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے دفاعی نظام کو جدید بنایا گیا، نقصان زدہ فوجی تنصیبات بحال کی گئیں، نئی عسکری ٹیکنالوجی پر کام تیز کیا گیا اور جدید نسل کے ڈرونز بھی تیار کیے گئے، جن کی تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ میزائل اور ڈرون کی پیداوار جنگ کے دوران بھی مسلسل جاری رہی، جبکہ ڈرونز کی تیاری جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تین گنا تک بڑھ گئی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے بھی کہا کہ جنگ بندی کے دوران میزائل سازی کی رفتار اور میزائلوں کی درستگی میں مزید بہتری لائی گئی، تاہم اسلحے کے ذخائر یا جنگی نقصانات سے متعلق کوئی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔
دوسری جانب بعض امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے پاس جنگ سے قبل موجود میزائل ذخیرے کا تقریباً 70 فیصد اور ڈرونز کا 40 فیصد حصہ اب بھی موجود ہے، جس سے وہ طویل مدت تک غیر روایتی جنگی صلاحیت برقرار رکھ سکتا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کو مستقبل قریب میں چین میں تیار کردہ فضائی دفاعی میزائل ملنے کی اطلاعات ہیں، تاہم چین اور پاکستان نے ان خبروں کی تردید کی ہے جبکہ ایران نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف نہیں دیا۔
ادھر یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ بحیرۂ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے بعد تمام عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ خطے میں عمان اور آبنائے ہرمز کے اطراف سیکیورٹی خدشات کے باعث کشیدگی بدستور برقرار ہے۔








