118
اپوزیشن کا حکومت پر سیاسی مذاکرات میں عدم سنجیدگی کا الزام، بامقصد ڈائیلاگ کی پیشکش برقرار
اسلام آباد: مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومت پر سیاسی مذاکرات میں عدم سنجیدگی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن مسائل کے حل کے لیے بامقصد مذاکرات کی حامی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے اس حوالے سے سنجیدہ پیش رفت…
اسلام آباد: مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومت پر سیاسی مذاکرات میں عدم سنجیدگی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن مسائل کے حل کے لیے بامقصد مذاکرات کی حامی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے اس حوالے سے سنجیدہ پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اپوزیشن نے ہمیشہ سیاسی روابط اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی حمایت کی ہے اور آج بھی حکومت کے ساتھ بامقصد بات چیت کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ محمود خان اچکزئی نے بھی حکومت کو مذاکرات کے لیے مختلف تجاویز دی تھیں، جن میں پارلیمنٹ کے آئینی کمرے یا رانا ثناء اللہ کی رہائش گاہ پر ملاقات کی پیشکش بھی شامل تھی۔
راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ وہ اربعین کے سلسلے میں بیرونِ ملک موجود ہیں، تاہم اگر مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے تو وہ فوری طور پر پاکستان واپس آنے کے لیے تیار ہیں تاکہ سیاسی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
دوسری جانب تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت واقعی مذاکرات میں سنجیدہ ہوتی تو اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کے مقدمات درج نہ کیے جاتے اور نہ ہی اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندیاں عائد کی جاتیں۔
انہوں نے کہا کہ کامیاب مذاکرات کے لیے مثبت ماحول ضروری ہوتا ہے، جبکہ موجودہ صورتحال میں حکومتی اقدامات سیاسی کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔








