118
بھارت میں مودی مخالف سوشل میڈیا پوسٹس پر کریک ڈاؤن، میٹا انڈیا کے سربراہ سمیت متعدد افراد کے خلاف مقدمات
نئی دہلی: بھارت میں وزیرِ اعظم نریندر مودی سے متعلق مبینہ توہین آمیز مواد سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے کے معاملے پر حکام نے کارروائی تیز کر دی۔ بھارتی شہر حیدر آباد کی سائبر کرائم پولیس نے میٹا انڈیا کے سربراہ ارون سرینواس سمیت متعدد فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کے خلاف مقدمات درج…
نئی دہلی: بھارت میں وزیرِ اعظم نریندر مودی سے متعلق مبینہ توہین آمیز مواد سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے کے معاملے پر حکام نے کارروائی تیز کر دی۔ بھارتی شہر حیدر آباد کی سائبر کرائم پولیس نے میٹا انڈیا کے سربراہ ارون سرینواس سمیت متعدد فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقدمات دو شکایت گزاروں، ایس اراوند ریڈی اور ٹی سائی کرن گوڑ، کی درخواست پر درج کیے گئے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انسٹاگرام پر مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے متعلق توہین آمیز اور نازیبا مواد شیئر کیا جا رہا تھا۔
شکایت گزاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا مواد عوام کو گمراہ کرنے، غلط معلومات پھیلانے، نفرت اور بدامنی کو ہوا دینے، عوامی شخصیات کی ساکھ متاثر کرنے اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
پولیس کے مطابق طلبہ کے احتجاج کے دوران شیئر کی گئی متعدد سوشل میڈیا پوسٹس اور تبصروں کی بھی تحقیقات جاری ہیں، جن میں مبینہ طور پر نامناسب زبان استعمال کی گئی۔
دوسری جانب چند روز قبل وزیرِ اعظم نریندر مودی کے سرکاری اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو کو فیس بک پر عارضی طور پر بلاک کیے جانے کے بعد بھارتی حکومت نے میٹا سے وضاحت بھی طلب کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت نے میٹا انڈیا کے سربراہ ارون سرینواس کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا ہے، جبکہ میٹا نے حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں وزیرِ اعظم کے اکاؤنٹ سے متعلق مواد کی نگرانی مزید سخت کی جائے گی اور حساس معاملات میں فیصلے کمپنی کے سینئر حکام کی منظوری سے کیے جائیں گے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق میٹا کی ٹیم رواں ہفتے حکومتی نمائندوں سے ملاقات کرے گی، جس میں مواد کی نگرانی، پلیٹ فارم پالیسی اور دیگر متعلقہ امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
ادھر دہلی پولیس نے بھی 20 جولائی کے "سنسد چلو” مارچ اور جنتر منتر پر طلبہ احتجاج کے دوران شیئر کی گئی مبینہ توہین آمیز پوسٹس اور ویڈیوز ہٹانے کے لیے متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، نیوز پورٹلز اور مختلف اکاؤنٹس کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔








