0
ستنبول اجلاس: 8 ممالک کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ
استنبول: ترکیہ، پاکستان سمیت 8 علاقائی اور یورپی ممالک نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔ استنبول میں ہونے والے بند کمرہ اجلاس میں ترکیہ، مصر، پاکستان، سعودی عرب، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے وزرائے…
استنبول: ترکیہ، پاکستان سمیت 8 علاقائی اور یورپی ممالک نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔
استنبول میں ہونے والے بند کمرہ اجلاس میں ترکیہ، مصر، پاکستان، سعودی عرب، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی، جہاں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور جاری تنازعات کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے بعد ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے صحافیوں کو بتایا کہ ابتدائی طور پر چار علاقائی ممالک کے درمیان مذاکرات ہوئے، جن میں ایران پر ممکنہ حملے کے خدشات اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ بعد ازاں چار یورپی ممالک بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
حاقان فیدان کے مطابق آبنائے ہرمز، آبنائے باب المندب اور بحیرۂ اسود سمیت اہم بحری راستوں کو لاحق خطرات عالمی توانائی کی فراہمی، غذائی تحفظ اور آزاد تجارت کو متاثر کر رہے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ترک وزیرِ خارجہ نے کہا کہ شریک ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ تنازعات کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں اور مذاکرات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق اجلاس میں کسی بھی ملک نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت نہیں کی۔
اجلاس میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی، جامع امن معاہدے اور بحیرۂ اسود میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔










