16 صَفَر / July 30

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ 27 جولائی کو ہونے والا انتخابی عمل شفاف نہیں تھا اور اسی وجہ سے ان کی جماعت نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پاکستان میں مسترد کیے گئے نواز شریف اب آزاد کشمیر کی سیاست میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "کشمیر نہ کشمور بنے گا اور نہ ہی لاہور بنے گا۔”

انہوں نے الزام لگایا کہ 27 جولائی کو انتخابات کے نام پر دھاندلی اور فراڈ کیا گیا، جس کے باعث پاکستان تحریک انصاف نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے رہنماؤں کو آزاد کشمیر جانے سے روکا گیا، جس سے سیاسی سرگرمیوں اور انتخابی ماحول پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو آزادانہ انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہ دی جائے تو ایسے حالات میں شفاف انتخابات اور پائیدار سیاسی استحکام ممکن نہیں۔

بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور تمام سیاسی جماعتوں کے لیے یکساں بنایا جائے تاکہ عوام کا جمہوری عمل پر اعتماد برقرار رہے۔

تاحال الیکشن کمیشن یا مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بیرسٹر گوہر کے الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔