15 صَفَر / July 29

واشنگٹن / تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید شدت آ گئی ہے، جبکہ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف اقدامات اور بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی کارروائیوں کے جواب میں اردن میں قائم ایک امریکی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کو بھی روکنے کی کارروائی کی گئی ہے۔

دوسری جانب امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن کی جانب داغے گئے ایرانی میزائل بروقت فضا ہی میں تباہ کر دیے گئے، جس کے باعث کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم ایران کے دعوؤں اور امریکی مؤقف کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان خطے کی سکیورٹی اور دیگر اہم امور پر بھی مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 2 ڈالر سے زائد فی بیرل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید بگڑتی ہے تو توانائی کی عالمی سپلائی اور قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔