4 رَبيع الثاني / September 15

اسلام آباد: میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) میں امیدواروں کی تعداد میں مسلسل کمی پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پی ایم اے کے اعلامیے کے مطابق 2022ء میں ایم ڈی کیٹ کے لیے 2 لاکھ 4 ہزار 253 امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی تھی، جبکہ 2026ء میں یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 1 لاکھ 38 ہزار رہ گئی ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 2025ء میں ایم ڈی کیٹ کے لیے 1 لاکھ 40 ہزار 71 امیدوار رجسٹر ہوئے تھے، جبکہ رواں سال رجسٹریشن پورٹل دوبارہ کھولے جانے کے باوجود صرف 2 ہزار 63 مزید امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی۔

پی ایم اے کے مطابق امیدواروں کی تعداد میں کمی کو صرف رجسٹریشن کی آخری تاریخ سے جوڑنا درست نہیں، بلکہ اس کے پیچھے نوجوانوں میں طبی شعبے سے بڑھتی ہوئی مایوسی اور بددلی بھی ایک اہم وجہ ہو سکتی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی بھاری فیسیں طلبہ اور ان کے خاندانوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہیں، جبکہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل تربیتی نشستوں کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

پی ایم اے نے مزید کہا کہ نوجوان ڈاکٹروں کو کم ابتدائی تنخواہوں اور وظائف کی ادائیگی میں تاخیر جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسوسی ایشن نے ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس کو وظائف کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

اعلامیے کے مطابق طبی عملے پر تشدد کے واقعات کے باعث اسپتالوں میں کام کرنے کا ماحول بھی غیر محفوظ ہو رہا ہے۔ پی ایم اے نے طبی عملے کے تحفظ کے لیے وفاقی ہیلتھ کیئر پروفیشنلز پروٹیکشن ایکٹ منظور کرنے پر زور دیا۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے سرکاری طبی مراکز میں باقاعدہ میڈیکل افسران کی اسامیاں پیدا کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔