4 رَبيع الثاني / September 15

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے پولیس ایکٹ 2017ء میں ترامیم کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبر پختونخوا کی تعیناتی کا اختیار صوبائی حکومت کو دینے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ ترامیم کے لیے ترمیمی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ ترامیم کی منظوری کے بعد ریجنل پولیس افسران (آر پی اوز) اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران (ڈی پی اوز) کی تقرری اور تبادلوں کا اختیار بھی وزیرِ اعلیٰ کے پاس آنے کی تجویز ہے۔

مجوزہ ترامیم میں پولیسنگ کی نگرانی کے لیے پبلک سیفٹی کمیشن قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جس کی سربراہی رکنِ صوبائی اسمبلی کو دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پولیس ایکٹ میں ریجنل کمپلینٹ اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے، جس کا مقصد پولیس سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر نظام تشکیل دینا ہے۔

وزیرِ قانون خیبر پختونخوا آفتاب عالم نے بتایا کہ صوبائی حکومت پولیس ایکٹ 2017ء میں بہتری لانے کے لیے ترامیم کر رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پولیسنگ صوبائی معاملہ ہے اور صوبے کو اپنے پولیس نظام سے متعلق اختیارات حاصل ہونے چاہئیں۔

آفتاب عالم کے مطابق پولیس پر چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ اختیارات کے غلط استعمال کی روک تھام ممکن ہو۔

انہوں نے بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے آر پی اوز اور ڈی پی اوز کے تبادلوں کا اختیار صوبائی حکومت سے واپس لے لیا گیا تھا۔

وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ حکومت پولیس کے اختیارات کم نہیں کر رہی بلکہ ان اختیارات کو مزید بہتر اور مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔