119
مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں، کایا کالاس
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے تمام رکن ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کایا کالاس…
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے تمام رکن ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کایا کالاس نے کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے بستیوں کی مسلسل توسیع دو ریاستی حل کے قابلِ عمل امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین غزہ اور مغربی کنارے کے لیے انسانی امداد فراہم کرنے والا سب سے بڑا عطیہ دہندہ ہے اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر جامع، منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔
کایا کالاس کے مطابق دو ریاستی حل کے تحت فلسطینی اور اسرائیلی ریاستیں محفوظ اور تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر ایک دوسرے کے ساتھ پُرامن طور پر رہ سکیں گی۔
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ سمیت 12 ممالک نے اسرائیلی بستیوں کو ہدف بنانے والی تجارتی پابندیوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
کایا کالاس کے بیان کے بعد اسرائیلی بستیوں کے معاملے پر یورپی یونین کے مؤقف اور دو ریاستی حل کے حوالے سے اس کی پالیسی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔







