118
ٹرمپ کی دھمکیاں ’تھیٹر ڈپلومیسی‘ ہیں، امریکا سنجیدہ رویہ اپنائے: باقر قالیباف
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا بار بار فوجی دھمکیوں اور مذاکرات کی پیشکش کے درمیان مؤقف تبدیل کر رہا ہے، جسے انہوں نے "تھیٹر ڈپلومیسی" قرار دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان…
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا بار بار فوجی دھمکیوں اور مذاکرات کی پیشکش کے درمیان مؤقف تبدیل کر رہا ہے، جسے انہوں نے "تھیٹر ڈپلومیسی” قرار دیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں باقر قالیباف نے کہا کہ کبھی بڑے حملے کی دھمکی دی جاتی ہے اور پھر اسے واپس لے لیا جاتا ہے، جبکہ اس کے بعد مذاکرات کی بات کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل مسلسل دہرایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوجی دباؤ، ٹوٹے ہوئے وعدے اور جھوٹی خبروں کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے، اس لیے واشنگٹن کو حقیقت پسندانہ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
باقر قالیباف نے مزید کہا کہ امریکا کو اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے سنجیدہ سفارتی اقدامات پر توجہ دینی چاہیے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے خلاف ایک بڑے فوجی حملے کا منصوبہ مؤخر کر دیا گیا ہے، کیونکہ سفارتی پیش رفت کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ممکنہ معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق پیش رفت متوقع ہے۔








