118
یمن میں حوثیوں کے میزائل و ڈرون حملے، 30 فوجی اہلکار ہلاک، کشیدگی میں شدید اضافہ
صنعاء: یمن میں حوثی گروپ کی جانب سے حکومتی فوج کے کیمپوں پر کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم 30 فوجی اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے، جس کے بعد ملک میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ یمنی حکومت کے مطابق حملے حضرموت اور مارب کے فوجی کیمپوں…
صنعاء: یمن میں حوثی گروپ کی جانب سے حکومتی فوج کے کیمپوں پر کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم 30 فوجی اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے، جس کے بعد ملک میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
یمنی حکومت کے مطابق حملے حضرموت اور مارب کے فوجی کیمپوں کو نشانہ بنا کر کیے گئے، جبکہ زخمیوں کی حالت کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملے حکومتی فوج کی حالیہ عسکری نقل و حرکت کے ردعمل میں کیے گئے، جبکہ یمنی فوج نے بھی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں حالیہ فوجی آپریشنز کے جواب میں ہوئیں۔
رپورٹس کے مطابق صوبہ الجوف سے داغے گئے متعدد میزائل حضرموت کے الثنیہ اور العبر جبکہ مارب کے الروک فوجی کیمپوں پر گرے۔ حملے کے وقت اہلکار تربیتی سرگرمیوں میں مصروف تھے، جس کے باعث جانی نقصان زیادہ ہوا۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ حملے 2022ء کے بعد یمن میں ہونے والی سب سے بڑی عسکری کارروائیوں میں شمار کیے جا رہے ہیں، جبکہ حالیہ ہفتوں میں فریقین کے درمیان جھڑپوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سفارت خانے نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کیا، جبکہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ سرحدی شہر نجران پر ایک حملے میں 11 شہری زخمی ہوئے، تاہم حوثیوں کی جانب سے اس حملے کی فوری ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔








