21 صَفَر / August 04

واشنگٹن: امریکا کے قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ 1.8 ارب ڈالر مالیت کے متنازع اینٹی ویپنائزیشن فنڈ کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے، جس کے بعد ان کی مستقل اٹارنی جنرل کے طور پر نامزدگی کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ دور ہو گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت دو ریپبلکن سینیٹرز کے ساتھ کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد سامنے آئی، جو ٹوڈ بلانچ کی توثیق کے عمل میں تحفظات کا اظہار کر رہے تھے۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر جان کارنن کے ترجمان نے معاہدے کی تصدیق کی، جبکہ شمالی کیرولائنا کے سینیٹر تھام ٹِلس نے اس معاملے پر فوری تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

ٹوڈ بلانچ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ سینیٹرز کے ساتھ مشاورت کے بعد 18 مئی 2026 کا وہ حکم نامہ باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت مذکورہ فنڈ قائم کیا جانا تھا۔

حکم نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کے اہلِ خانہ کو ٹیکس آڈٹ سے استثنیٰ دینے سے متعلق شق صرف ماضی کے زیرِ التوا ٹیکس معاملات تک محدود رہے گی اور آئندہ جمع کرائے جانے والے ٹیکس گوشواروں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق اگرچہ اس معاملے پر کئی ہفتوں سے مذاکرات جاری تھے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل اس فنڈ کی حمایت کرتے رہے۔

واضح رہے کہ امریکی سینیٹ کی عدالتی کمیٹی میں ٹوڈ بلانچ کی مستقل اٹارنی جنرل کے طور پر نامزدگی پر ووٹنگ متوقع ہے، جسے امریکی سیاسی حلقوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں