17 صَفَر / July 31

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ غیر ملکی طلبہ کے لیے گریجویشن کے بعد ملازمت کے مواقع محدود کرنے کے حوالے سے نئی پالیسی پر غور کر رہی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے اختیاری عملی تربیت (OPT) پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے طلبہ پر 100 ہزار ڈالر فیس عائد کرنے کی تجویز زیر غور رکھی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس تجویز پر تاحال کوئی باضابطہ فیصلہ یا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم اگر اسے منظور کر لیا گیا تو یہ غیر ملکی طلبہ کے لیے امریکی ملازمت کے حصول کو نمایاں طور پر مہنگا اور مشکل بنا سکتا ہے۔

فی الوقت OPT پروگرام کے تحت بین الاقوامی طلبہ اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد ایک سال تک امریکا میں ملازمت کر سکتے ہیں، جبکہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو مزید دو سال تک توسیع کی سہولت بھی حاصل ہوتی ہے۔ یہی پروگرام بعد ازاں امریکی ورک ویزا کے حصول کے لیے اہم راستہ تصور کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ بعض افراد نے اس پروگرام کو ویزا فراڈ اور مقررہ مدت سے زائد قیام کے لیے استعمال کیا، جس کے باعث اس نظام میں سختی لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ٹرمپ انتظامیہ نئے ورک ویزا درخواست دہندگان پر 100 ہزار ڈالر فیس عائد کرنے کی کوشش کر چکی ہے، تاہم امریکی وفاقی اپیل عدالت نے اس فیصلے پر عمل درآمد عارضی طور پر روک دیا تھا۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو بڑی تعداد میں بین الاقوامی طلبہ امریکا کے بجائے برطانیہ، کینیڈا، جرمنی اور آسٹریلیا جیسے متبادل تعلیمی مقامات کا انتخاب کر سکتے ہیں، جبکہ امریکا میں زیر تعلیم طلبہ بھی مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتے ہیں۔