16 صَفَر / July 30

لاہور: پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پاکستان پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کے معاملے پر سیاست کرنے والوں کو سندھ میں انتظامی یونٹس کے قیام پر بھی واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔

اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جب بھی پیپلز پارٹی سے اس کی حکومتی کارکردگی کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ جواب دینے کے بجائے دیگر معاملات کی طرف توجہ مبذول کرانے کی کوشش کرتی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کراچی کے شہریوں کو ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ وفاقی حکومت کے خلاف بے بنیاد بیانیہ بنایا جاتا ہے۔

عظمیٰ بخاری نے گزشتہ سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبائی وسائل سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کام کیے، جبکہ ان کے بقول وفاقی حکومت کی جانب سے خاطر خواہ تعاون نہیں ملا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر سیاسی ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش دوسری جانب سے کی جائے گی تو پنجاب حکومت بھی مثبت رویہ اختیار کرے گی۔

وزیرِ اطلاعات پنجاب نے سندھ کے شعبۂ صحت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر صوبے کے سرکاری اسپتال بہترین سہولیات فراہم کر رہے ہیں تو وہاں کے وزراء بیرونِ ملک علاج کے لیے کیوں جاتے ہیں۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز جنوبی پنجاب کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے معاملے کو سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کرتی ہے، تاہم اگر وہ جنوبی پنجاب کے لیے الگ انتظامی ڈھانچے کی حمایت کرتی ہے تو سندھ میں بھی انتظامی یونٹس کے قیام پر یکساں مؤقف اپنانا چاہیے۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے عظمیٰ بخاری کے ان بیانات پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔