15 صَفَر / July 29

مظفرآباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ماضی میں ان کی حکومتیں انتخابی دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئیں، جبکہ آزاد کشمیر میں بھی انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے ری پولنگ کا مطالبہ کیا ہے۔

مظفرآباد میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا پہلا وزیراعلیٰ پنجاب مبینہ دھاندلی کے نتیجے میں بنا، جبکہ ان کے بقول وزیراعظم بھی "آر او الیکشن” کے ذریعے منتخب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں کسی قسم کی انتخابی دھاندلی قبول نہیں کرے گی اور 2 اگست کے انتخابات میں عوام تیر کے نشان کو کامیاب بنائیں گے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی گزشتہ تین نسلوں سے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرتی آ رہی ہے اور عوام کسی بھی مبینہ سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ چوہدری یاسین کی آبائی نشست پر 30 پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کرکے مبینہ طور پر جعلی ووٹ ڈالے گئے۔ ان کے مطابق ان کے پاس اس حوالے سے شواہد موجود ہیں، لہٰذا الیکشن کمیشن ان پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کرائے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وہ سیاسی شکست کو قبول کر سکتے ہیں، تاہم مبینہ انتخابی دھاندلی کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے کارکنوں سے وعدہ کیا کہ اگر کسی نشست پر دھاندلی ثابت ہوئی تو وہ اسے قانونی اور سیاسی طریقے سے واپس حاصل کریں گے۔

بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پیش آنے والے واقعات کے حل کے لیے ایک بااختیار کمیشن قائم کیا جانا چاہیے، جبکہ احتجاج کرنے والوں سے اپیل کی کہ وہ کمیشن کی رپورٹ آنے تک انتظار کریں۔

مسلم لیگ (ن) یا الیکشن کمیشن کی جانب سے بلاول بھٹو کے الزامات پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔